ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’جنتا کرفیو‘ جیسا اقدام وائرس کے پھیلاؤ نہیں روک سکتا، ماہرین نے سرکاری دعووں پر اٹھائے سوال

’جنتا کرفیو‘ جیسا اقدام وائرس کے پھیلاؤ نہیں روک سکتا، ماہرین نے سرکاری دعووں پر اٹھائے سوال

Sun, 22 Mar 2020 19:39:31    S.O. News Service

نئی دہلی،22؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹر نے کچھ ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ 14 گھنٹے کے ’جنتا کرفیو‘ لگنے سے کیا وائرس مرجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس کوشش سے لوگوں کو بگڑتی صورتحال کے لئے تیار کرنے میں مدد ملے گی اور سماجی دوری بنائے رکھنے کا پیغام عام کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے وائرس کے پھیلاؤ کی چین ٹوٹ جائے گی اس کو کچھ زیادہ ہی آسان طرح پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور خود وزیر اعظم نے اپنے قوم سے خطاب میں ایسا کوئی دعوی نہیں کیا۔

ایمس میں مائکرو بائلوجی کی سابق ہیڈ ڈاکٹر شوبھا برور کا کہنا ہے کہ ’’اس قدم سے (جنتا کرفیو) وائرس کا پھیلاؤ کم ہوگا کیونکہ لوگ ایک دوسرے سے رابطہ میں نہیں آئیں گے لیکن اس قدم سے وائرس کے پھیلنے کی چین ٹوٹ جائے گی ایسا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ وائرس 20 یا 22 گھنٹوں میں مر جائے گا، وزارت نے اس کو کچھ زیادہ ہی آسان طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کورونا پر ہونے والی روز کی پریس بریفنگ میں جوائنٹ سکریٹری ہیلتھ اگروال نے کل کہا تھا کہ وزیر اعظم کی اپیل پر عوامی تعاون سے وائرس کے پھیلاؤ کی چین ٹوٹ جائے گی۔ ماہرین اگروال کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ اگروال کے علاوہ حکومت کے کئی ذمہ داران نے بھی یہ بات کہی ہے کہ چونکہ عالمی طبی تنظیم نے اس بات کی وکالت کی ہے کہ سماجی دوری بنائے رکھنے سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اس لئے وزیر اعظم کی ’جنتا کرفیو‘ کی اپیل اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

عالمی طبی تنظیم کے چیف سائنسداں ڈاکٹر سومیا وسوامی ناتھن نے ایکسپریس کو بتایا ’’جنتا کرفیو سب کو صورتحال سے تیار کرنے کی کوشش ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی چین روکنے کے لئے آپ کو اگر مہینے نہیں تو ہفتہ ضرور چاہیے ہوتے ہیں اور صرف ایک چیز نہیں بلکہ کئی اقدامات لینے پڑتے ہیں۔‘‘حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک لمبی لڑائی ہے اور جنتا کرفیو کو زیادہ بڑھا چڑھا کر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ حقیقی پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہیے اور اس کو تقریب اور ایک شخص کی ذہانت کے طور پر نہیں پیش کرنا چاہیے۔


Share: